عرب میں مکہ شہر ہے۔ اس میں اللہ کا گھر کعبہ ہے۔ ابراھیم علیہ اسلام اور اسماعیل علیہ السلام نے اسے ایک اللہ کی عبادت کے لئے تعمیر کیا تھا۔ مگر بعد میں لوگوں نے کعبے میں۳۶۰ بت رکھ دئیے اور ان کی پوجا کرنے لگے۔ اسی شہر مکہ میں ایک صاحب رہتے تھے ان کا نام زید تھا۔ وہ ایک الہ کو مانتے تھے۔ بتوں کی پوجا نہیں کرتے تھے۔ برائی سے بہت دور رہتے تھے۔نیکی پھیلاتے تھے۔ان کے پاس دین کی باتیں نہیں پہچی تھیں۔ وہ سچے دین کی تلاش میں تھے۔ وہ پیارے نبی صلہ اللہ علیہ و سلم کے نبی بنائے جانے سے پہلے ہی انتقال کر گئے۔ ان کے بیٹے تھے سعید۔جب پیارے نبی صلہ اللہ علیہ و سلم نے اسلام کی تبلیغ شروع کی تو وہ بالکل شروع میں مسلمان ہو گئے۔ ان کی بیوی کا نام فاطمہ تھا۔ فاطمہ حضرت عمر کی بہن تھیں۔دوسرے مسلمانوں کی طرح سعیدبھی ستائے گئے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے اسلام لانے کا واقعہ بھی عجیب ہے۔ ایک مرتبہ عمر ننگی تلوار ہاتھ میں لئے حضور نبی صلہ اللہ علیہ و سلم کو قتل کرنے کے ارادے سے نکلے،راستے میں ایک شخص نے پوچھا ’’کہاں چلے؟‘‘جواب دیا! ’’محمد نبی صلہ اللہ علیہ و سلم کا کام تمام کرنے جارہا ہوں۔‘‘ اس نے کہا! پہلے اپنے گھر کی خبر لو۔ تمہاری بہن اور بہنوئی مسلمان ہو گئے ہیں۔‘‘ یہ سنا تو وہ بہن کے گھر گئے۔اپنے بہنوئی سعید کو مارا پیٹا۔ بہن فاطمہ بچانے آئیں تو انھیں بھی مارا۔ یہاں تک کہ ان کے خون نکل آیا۔ بہن نے کہا ’’عمر چاہے تم ہماری جان لے لو، ہم اب اسلام کو چھوڑنے والے نہیں۔‘‘ یہ سنا اور بہن کا خون دیکھا تو عمر کا دل پسیجا۔ بولے ’’ مجھے بتاؤ تم کیا پڑھ رہے تھے۔‘‘انھیں قرآن کی آئتیں سنائی گئیں۔قرآن کی آئیتوں نے ان کا دل جیت لیا اور وہ مسلمان ہو گئے۔ دوسرے مسلمانوں کی طرح کافروں نے سعید کو بھی ستایا تو وہ حضور نبی صلہ اللہ علیہ و سلم سے اجازت لے کر پر دیس چلے گئے، مدینہ ہجرت کر گئے۔ سعید لوگوں سے کم ملتے جلتے تھے۔ لیکن جہاد کا موقعہ آتا تو جی جان سے شریک ہوتے اور بڑی بہادری سے لڑتے تھے۔ بدر کے موقعہ پر حضور نبی صلہ اللہ علیہ و سلم نے آپ کو ایک کام سے بھیج دیا تھا۔ واپس ہوئے تو بدر کے غازی خوشی کے گیت گاتے ہوئے واپس ہو رہے تھے۔ پیارے نبی نبی صلہ اللہ علیہ و سلم نے مال غنیمت میں ان کا بھی حصہ لگایا اور فرمایا : اللہ نے چاہا تو تمھیں جہاد کا ثواب بھی ملے گا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے چاہا کہ سعید کوکہیں کا گورنر بنادیں مگر وہ کسی طرح تیار نہ ہوئے۔ شام کی لڑائی میں وہ فوج کے افسر تھے۔ دمشق اور یرموک کی لڑائی میں شریک رہے ۔بڑی جرئت اور دلیری سے لڑے۔ دمشق فتح ہواتو وہاں کے گورنر بنائے گئے۔ مگر جب جہاد کے لئے مجاہدین جانے لگے تو ان سے رہا نہ گیا۔ کہا ’’میں سرداری کے مقابلہ میں جہاد کو زیادہ پسند کرتا ہوں۔ کسی اور کو آپ گورنر بنادیں میں جہاد میں شریک ہوتا ہوں۔‘‘ شام کی فتح کے بعد خاموشی میں اپنی زندگی گزاری اور ۵۰ ھ میں وفات پائی۔ آپ زندگی میں آخرت کی تیاری کا سچا نمونہ تھے۔ سعید بن زید شروع ہی میں ایمان لانے والوں شریک تھے ۔وہ ہمیشہ نیکی کے کام اور جہاد میں شریک رہتے تھے ۔ اللہ ہمیں بھی ان کا پیرو بنائے۔ آمین
0 comments:
Post a Comment